🔥 بریکنگ نیوز: ایران اور اسرائیل کے درمیان شدید لڑائی — اب تک 50 سے زائد مقامات پر میزائل حملوں کی اطلاع 💀 جانی نقصان: حالیہ حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 120 سے تجاوز کر گئی — سینکڑوں افراد شدید زخمی 🛢️ عالمی معیشت: خام تیل (Oil) کی قیمت 92 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی — سپلائی متاثر ہونے کا شدید خدشہ ⚔️ جنگ کا خطرہ: امریکہ کا بحری بیڑہ خلیج کی جانب روانہ — عالمی طاقتوں کا ہنگامی اجلاس طلب 🌍 وافا براڈکاسٹنگ نیٹ ورک (WBN) آپ کو لمحہ بہ لمحہ باخبر رکھے گا

WBN

WAFA BROADCASTING NETWORK

پاک افغان سرحد پر کشیدگی: فضائی حملے اور تازہ ترین صورتحال

نشر ہوا: March 18, 2026 | وافا نیٹ ورک
پاک افغان سرحد پر کشیدگی | WBN Exclusive
⚡ WBN EXCLUSIVE
19 مارچ 2026 پاکستان · دفاع

پاک افغان سرحد پر کشیدگی: فضائی حملے اور تازہ ترین صورتحال

پاک فوج کی جوابی کارروائی، ISPR کا باضابطہ بیان اور سرحد پر تازہ ترین صورتحال — ہر لمحے کی خبر WBN کے ساتھ

پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر کشیدگی ایک بار پھر عروج پر پہنچ گئی ہے۔ پاکستانی فوج نے افغان سرزمین سے ہونے والے دہشتگردانہ حملوں کے جواب میں درست نشانہ بنا کر فضائی کارروائی کی ہے۔ آئی ایس پی آر نے تصدیق کی ہے کہ یہ آپریشن خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں کے بعد کیا گیا۔

اہم نکات — ایک نظر میں
  • پاک فوج نے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں دہشتگرد ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے
  • حملوں میں متعدد تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے کمانڈر ہلاک ہوئے
  • پاکستان نے افغان سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا
  • افغان طالبان حکومت نے پاکستانی کارروائی کو خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا
  • خیبر پختونخوا میں ہائی الرٹ جاری — فرنٹیئر کور تعینات
  • اقوام متحدہ نے دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی

پس منظر — کشیدگی کی وجوہات

پاک افغان سرحد پر کشیدگی کوئی نئی بات نہیں، لیکن گزشتہ چند ہفتوں میں صورتحال انتہائی سنگین ہو گئی ہے۔ خیبر پختونخوا کے سرحدی اضلاع — خاص طور پر باجوڑ، کرم اور شمالی وزیرستان — میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں اچانک اضافہ ہوا۔ انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق یہ حملے افغانستان کی سرزمین استعمال کر کے تحریک طالبان پاکستان (TTP) نے کیے۔

پاکستان نے بارہا افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ TTP کے ٹھکانے ختم کرے، لیکن کوئی قابل ذکر اقدام نہ ہونے پر پاکستانی فوج نے اپنی دفاعی حکمت عملی میں تبدیلی کرتے ہوئے جوابی کارروائی کا فیصلہ کیا۔

پاکستانی فوج کی جوابی کارروائی

آئی ایس پی آر کے جاری کردہ بیان کے مطابق پاکستانی فضائیہ نے افغانستان کے کنڑ اور ننگرہار صوبوں میں TTP کے مخصوص ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ آپریشن میں جدید ترین ہدف تباہی نظام استعمال کیا گیا تاکہ عام شہریوں کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔

علاقہ نشانہ نتیجہ
کنڑ صوبہ، افغانستان TTP کمانڈ سینٹر اور ہتھیاروں کا ذخیرہ مکمل تباہ — 12 دہشتگرد ہلاک
ننگرہار، افغانستان تربیتی کیمپ اور لاجسٹک ڈپو 90 فیصد تباہ — 8 کمانڈر ہلاک
خوست سرحد، افغانستان دراندازی راستے اور بارودی سرنگ کارخانہ مکمل تباہ — 5 دہشتگرد ہلاک
🎙️ آئی ایس پی آر — سرکاری بیان

"پاکستان مسلح افواج نے افغان سرزمین سے ہونے والے دہشتگردانہ حملوں کے جواب میں درست اور محدود فضائی کارروائی کی ہے۔ یہ آپریشن خالصتاً دفاعی نوعیت کا تھا اور صرف تصدیق شدہ TTP ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ پاکستان افغانستان کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے لیکن اپنے شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائے گا۔"

ڈی جی آئی ایس پی آر، میجر جنرل احمد شریف چوہدری

افغانستان کا ردعمل

افغان طالبان حکومت نے پاکستانی فضائی کارروائی کو شدید الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اسے افغانستان کی خودمختاری کی "صریح خلاف ورزی" قرار دیا۔ کابل میں پاکستانی سفارت خانے کے سامنے احتجاج کیا گیا۔ افغان وزارت خارجہ نے اسلام آباد میں اپنے سفیر کو فوری طور پر واپس بلانے کا اعلان کیا۔

دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی کے باعث تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔ طورخم اور چمن بارڈر کراسنگ عارضی طور پر بند کر دی گئی ہیں۔ ہزاروں مسافر اور تاجر دونوں اطراف پھنسے ہوئے ہیں۔

بین الاقوامی ردعمل

اقوام متحدہ نے دونوں ممالک سے فوری طور پر کشیدگی کم کرنے اور بات چیت کا راستہ اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔ امریکہ نے اپنے شہریوں کو خطے کا سفر نہ کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ چین نے ثالثی کی پیشکش کی ہے جبکہ روس نے پاکستان کے دہشتگردی مخالف موقف کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

آئندہ صورتحال — ممکنہ منظرنامے

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے دنوں میں تین ممکنہ صورتیں سامنے آ سکتی ہیں: پہلی یہ کہ دونوں ممالک سفارتی راستہ اختیار کریں اور TTP کے خلاف مشترکہ آپریشن کریں۔ دوسری یہ کہ کشیدگی مزید بڑھے اور اضافی فوجی کارروائیاں ہوں۔ تیسری یہ کہ کسی تیسرے فریق — جیسے چین یا ترکی — کی ثالثی سے کشیدگی کم ہو۔

پاکستانی حکومت کا واضح موقف ہے کہ وہ مذاکرات کا دروازہ بند نہیں کرتی، لیکن دہشتگردی کے خلاف آپریشن جاری رہے گا۔