ایران-امریکہ جنگ کی آگ خلیج میں — سعودی عرب، UAE اور بحرین پر میزائل حملے، تباہی اور تازہ ترین صورتحال
28 فروری 2026 سے شروع ہونے والی امریکہ-اسرائیل اور ایران کی جنگ نے پورے خلیج کو لپیٹ میں لے لیا — تینوں ممالک کی تازہ ترین صورتحال WBN کی خصوصی رپورٹ
28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ فضائی حملے کیے جن میں سپریم لیڈر خامنہ ای سمیت سینئر فوجی کمانڈر ہلاک ہوئے۔ ایران نے جوابی کارروائی میں پوری خلیج کو نشانہ بنایا — تاریخ میں پہلی بار تمام GCC ممالک ایک ساتھ ایرانی حملوں کی زد میں آئے۔ سعودی عرب، UAE اور بحرین کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا۔ آبنائے ہرمز عملاً بند ہو گیا، تیل کی قیمتیں 40 فیصد بڑھ گئیں اور عالمی معیشت کو زوردار جھٹکا لگا۔
- UAE پر 314 بیلسٹک میزائل، 15 کروز میزائل اور 1,672 ڈرون داغے گئے — 8 افراد ہلاک، 157 زخمی
- سعودی آرامکو کا رأس تنورہ ریفائنری ملبے سے متاثر — عارضی بند
- بحرین نے 125 میزائل اور 203 ڈرون مار گرائے — 2 افراد ہلاک
- آبنائے ہرمز میں جہاز رانی 20 فیصد عام سطح پر — عالمی تیل بحران
- UAE اور بحرین کے 70 فیصد سے زائد پروازیں منسوخ — ہزاروں مسافر پھنسے
- GCC نے ہنگامی اجلاس میں ایران کے حملوں کو "غدارانہ" قرار دیا
- F1 بحرین اور سعودی گرانڈ پری منسوخ — بین الاقوامی برادری نگران
- ایران کا عذرخواہی بیان — لیکن حملے جاری رہے
سعودی عرب نے 2023 میں ایران سے تعلقات معمول پر لائے تھے، اس لیے ابتدائی حملے کچھ کم ہوئے — لیکن ایران نے یہاں بھی نشانہ لگایا۔ رأس تنورہ کے تیل کی سہولت پر ڈرون داغے گئے جنہیں مار گرایا گیا، تاہم ملبہ گرنے سے ریفائنری عارضی طور پر بند ہوئی۔ ریاض میں امریکی سفارت خانے کو ایک ڈرون حملے نے نشانہ بنایا۔ شہزادہ سلطان ایئر بیس کو ایرانی بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا جو سعودی دفاعی نظام نے مار گرائے — دس ڈرون ریاض اور مشرقی علاقے پر بھی روکے گئے۔
سعودی ارامکو نے تیل کی برآمد خلیج فارس کی بجائے بحیرہ احمر کی طرف پائپ لائن سے منتقل کرنا شروع کر دی ہے — لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ یہ آبنائے ہرمز کا متبادل نہیں۔ عرب دنیا کی اسٹاک مارکیٹ میں شدید کمی — سعودی اور قطری بازار ڈوبے۔ GCC کی 50ویں ہنگامی وزرائے خارجہ کانفرنس میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل نے ایران کے حملوں کو "انسانیت کے خلاف جرم" قرار دیا۔
سعودی عرب کو نقصان — تفصیل
| ہدف | حملے کی نوعیت | نتیجہ |
|---|---|---|
| رأس تنورہ ریفائنری | ڈرون — ملبہ گرا | عارضی بندش |
| امریکی سفارت خانہ ریاض | ڈرون حملہ | جزوی نقصان |
| شہزادہ سلطان ایئر بیس | بیلسٹک میزائل | روکے گئے |
| ریاض اور مشرقی علاقہ | 10 ڈرون | سب مار گرائے |
UAE کو خلیجی ممالک میں سب سے زیادہ حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ 28 فروری سے 17 مارچ تک ایران نے 314 بیلسٹک میزائل، 15 کروز میزائل اور 1,672 ڈرون داغے — کل 1,986 حملے۔ زیادہ تر ناکام کیے گئے لیکن کچھ نے نشانہ مارا۔ ابوظبی کے قریب رہائشی علاقے میں ایک پاکستانی شہری ملبے سے ہلاک ہوا۔ Palm Jumeirah کے ہوٹل کے قریب ڈرون گرا — آگ اور دھماکے، 4 افراد زخمی۔
دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ ٹرمینل 3 کو ہلکا نقصان پہنچا — چار اسٹاف ارکان زخمی، انخلاء۔ Amazon Web Services کا دبئی ڈیٹا سینٹر ڈرون کے ملبے سے متاثر ہوا — تاریخ میں پہلی بار کوئی بڑا کلاؤڈ ڈیٹا سینٹر جنگ میں نقصان پہنچا۔ جبل علی بندرگاہ میں آگ — دنیا کی مصروف ترین بندرگاہوں میں سے ایک جزوی بند۔ امارات ایئرلائن کی تمام پروازیں معطل — بعد میں جزوی بحالی۔ بُرج العرب کو قریب سے گزرنے والے ملبے سے نقصان۔
ایران نے الزام لگایا کہ UAE نے امریکہ کو خارک جزیرے پر حملے کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے دی — UAE نے سختی سے مسترد کیا۔ ایران نے UAE کی تین بندرگاہوں کو خالی کرنے کا الٹی میٹم بھی دیا۔ UAE نے ایران کے پانچ سکولوں کے آپریشن لائسنس منسوخ کر دیے۔
UAE کو نقصان — تفصیل
| ہدف | نتیجہ | سطح |
|---|---|---|
| ابوظبی رہائشی علاقہ | 1 پاکستانی ہلاک، 7 زخمی | 🔴 زیادہ |
| Palm Jumeirah ہوٹل | 4 زخمی، آگ | 🔴 زیادہ |
| دبئی ایئرپورٹ T3 | 4 زخمی، جزوی بندش | 🟠 درمیانہ |
| AWS ڈیٹا سینٹر دبئی | تاریخی — پہلی بار کلاؤڈ سینٹر متاثر | 🟠 درمیانہ |
| جبل علی بندرگاہ | آگ — جزوی بندش | 🔴 زیادہ |
| فجیرہ آئل فیسیلٹی | دھماکہ، دھواں | 🔴 زیادہ |
| بُرج العرب | ملبے سے نقصان | 🟠 درمیانہ |
بحرین چھوٹا ملک ضرور ہے لیکن امریکی بحریہ کے 5th Fleet کا گھر ہونے کی وجہ سے یہ ایران کا اہم نشانہ تھا۔ 28 فروری کو پہلے ہی دن منامہ میں دھماکے سنائی دیے اور 5th Fleet ہیڈکوارٹر کے قریب ایرانی ڈرون نے ایک عمارت کو آگ لگا دی۔ BAPCO ریفائنری — بحرین کی واحد بڑی ریفائنری — کو دو بیلسٹک میزائل لگے، آگ بھڑک اٹھی۔ بحرین انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو ڈرون حملے میں ایندھن ٹینک نقصاندہ ہوئے، دھواں دور سے نظر آیا۔
بحرین نے 125 میزائل اور 203 ڈرون مار گرائے — اپنے چھوٹے سائز کے مقابلے میں غیر معمولی دفاعی کارکردگی۔ 2 افراد ہلاک، درجنوں زخمی۔ وزارت داخلہ نے لوگوں کو "قریب ترین محفوظ جگہ" جانے کی ہدایت جاری کی — سائرن دو بار بجے۔ GCC کانفرنس میں بحرین کے وزیر خارجہ نے صدارت کی اور ایران کو شدید الفاظ میں مسترد کیا۔
عالمی معیشت پر اثرات
آبنائے ہرمز کی بندش نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ دنیا کی 20 فیصد تیل سپلائی اس راستے سے گزرتی ہے — اس کے رک جانے سے Brent Crude 70 ڈالر سے 110 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔ ایران نے دھمکی دی کہ تیل 200 ڈالر تک جا سکتا ہے۔ کویت، عراق، سعودی عرب اور UAE کی مجموعی تیل پیداوار 10 مارچ تک 67 لاکھ بیرل یومیہ کم ہوئی — تاریخ کا سب سے بڑا سپلائی بحران۔
UAE میں ملبے سے ایک پاکستانی شہری ہلاک — درجنوں زخمی۔ خلیج میں 35 لاکھ پاکستانی تارکین وطن کی جانیں خطرے میں۔ پروازیں منسوخ — پاکستان واپسی مشکل۔ ترسیلات زر متاثر — پاکستانی معیشت کو ماہانہ 700-800 ملین ڈالر کا نقصان ممکن۔ حکومت پاکستان نے خلیج میں اپنے شہریوں کو احتیاط کی ہدایت جاری کی۔
🌙 عید الفطر — جنگ کے سائے میں
سعودی عرب، UAE اور بحرین نے اعلان کیا کہ عید الفطر جمعہ 20 مارچ 2026 کو منائی جائے گی — شوال کا چاند بدھ کی شام نظر نہیں آیا اس لیے 30 رمضان جمعرات کو ہوگا۔ لیکن اس بار عید بارود کے دھوئیں، سائرنوں کی آوازوں اور بند آسمانوں کے ساتھ آئی ہے۔ UAE نے فتویٰ کونسل کی ہدایت پر نماز عید میں دعائے قنوت کا حکم دیا — مصیبت کے وقت کی یہ دعا خلیج کے بحران کی گواہ بنی۔
GCC کا ہنگامی اجلاس
یکم مارچ 2026 کو GCC کی 50ویں غیر معمولی وزرائے خارجہ کانفرنس ویڈیو لنک پر منعقد ہوئی۔ تمام چھ ممالک نے ایران کے حملوں کو "غدارانہ اور گھناؤنے" قرار دیا۔ کونسل نے اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا اور آبنائے ہرمز، فضائی حدود اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی حفاظت پر زور دیا۔ کونسل نے کہا کہ خلیج کا استحکام صرف علاقائی نہیں — عالمی معیشت کا بنیادی ستون ہے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے عذرخواہی کی اور کہا کہ ارادہ ہمسایہ ممالک کو نقصان پہنچانا نہیں تھا — لیکن اسی دن مزید حملے ہوئے۔ ایران کے سخت گیر حلقوں نے صدر کے معافی نامے کو "کمزوری" کہا اور حملے جاری رکھنے پر زور دیا۔